Monday, April 5, 2010

عمر خیام کی ایک رباعی دو تراجم

عمر خیام کی ایک رباعی دو تراجم



عمر خیام کی ایک رباعی دو تراجم





عمر خیام کی ایک رباعی دو تراجم








در مسجد اگرچہ بانیاز آمدہ ایم



حقا کہ نہ از بہر نماز آمدہ ایم



زیں جا روزے سجادۃ وزدیم



آں کہنہ شداست باز آمدہ ایم



عمر خیام











صحن. مسـجد میں ایـک دو حاجی



دیں کی تکمــیـل کرنے آئے ہیں



صف چرا کر جو لے گئے تھے کبھی



اس کو تـبـد یـل کرنے آئے ہیں



عبدالمجید عدم







صف باندھ کےمسجد میں ہون ہر چند کھڑا



پر مجھ کو نہ سمجھو کہ نمازی ہوں بڑا



مسجد سے چرایا تھا مصلٰـٰے اک روز



وہ ہوگیا بوسیدہ تو پھر انا پڑا



عصمت جاوید